سونے کے کچھ اعداد و شمار

  • دنیا کے سب سے بڑے سونے کے ذخائر پاکستان میں بلوچستان میں ہیں مگر پیداوار صفر ظاہر کی جاتی ہے۔
  • worlds-largest-gold-mines-in-pakistan

  • 2007 ء میں دنیا بھر کی کانوں سے نکلنے والے سونے کی مقدار 2415 ٹن تھی۔ 2009 میں یہ مقدار 2448 ٹن تھی۔ 
  • ۔ 2012 میں یہ 2847.7 ٹن تھی۔
  • ایک ٹن سونا 32150 ٹرائے اونس یا 85735 تولے کے برابر ہوتا ہے۔
  • دنیا بھر میں سالانہ سونے کی کھپت 3722 ٹن ہے۔
  • ہندوستان سونے کا سب سے بڑا خریدار تھا اور دنیا بھر کی سالانہ پیداوار کا 35٪ خرید لیتا تھا۔ اب چین سب سے بڑا خریدار ہے کیونکہ چینی عوام پر سونا رکھنے کی پابندی جو 1950 میں لگائ گئی تھی 2003 میں ختم کر دی گئی ہے۔
  • سن 2011 میں چین نے گزشتہ سال سے 20 فیصد زیادہ یعنی 769.8 ٹن سونا خریدا جبکہ ہندوستان نے 7 فیصد کم یعنی 933.4 ٹن سونا خریدا۔ سال کے آخری تین مہینوں میں چین نے 190.9 ٹن جبکہ ہندوستان نے 173 ٹن سونا خریدا۔ 
  • دنیا میں سب سے زیادہ سونا چین کی کانوں سے نکلتا ہے۔
  • دنیا بھر کی سالانہ پیداوار کا 63٪ حصہ زیورات بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔
  • آج تک کل ملا کر 165,000 ٹن سونا انسان بازیاب کر چکا ہے جسکی کل قیمت 9150 ارب ڈالر ہے (بحساب 1725 ڈالر فی اونس)۔
  • سالانہ پیداوار کی وجہ سے ہر سال سونے کے عالمی ذخیرے میں 1.5 فیصد کا اضافہ ہوتا ہے۔
  • دنیا میں ہر گھنٹے میں بننے والے اسٹیل کی مقدار دنیا بھر میں موجود سونے کی مقدار سے زیادہ ہوتی ہے۔
  • اس سارے سونے کا 85 فیصد سن 1900 کے بعد اور 50 فیصد سن 1950 کے بعد بازیاب کیا گیا۔
  • دنیا کا سارا سونا اگر دنیا کی کل آبادی یعنی سات ارب لوگوں میں تقسیم کیا جائے تو ہر آدمی کو 24 گرام (یعنی دو تولے سے زیادہ) سونا ملے۔
  • دنیا کا سارا سونا صرف 20 مکعب میٹر کی جگہ میں سما سکتا ہے۔ اگر یہ سارا سونا ایک ہزار گز کے پلاٹ پر رکھا جائے تو بننے والے مکعب نما کی اونچائ 33.5 فٹ ہو گی۔
  • دنیا بھر کی حکومتوں کی تحویل میں کل ملا کر 30 ہزار ٹن سونا ہے۔
  • امریکی حکومت کے پاس 8133 ٹن سونا ہے۔
  • IMF کے پاس 3005 ٹن سونا ہے۔
  • ہندوستان کی حکومت کے پاس 557.7 ٹن سونا ہے۔
  • سن 2009 میں ہندوستان کی حکومت نے IMF سے 200 ٹن سونا 6.7 ارب ڈالر میں خریدا۔
  • سن 2011 میں میکسیکو کی حکومت نے 100 ٹن سونا چار ارب ڈالر میں خریدا۔
  • نومبر 2012 میں جنوبی کوریا کے مرکزی بینک نے 14 ٹن سونا 78 کروڑ ڈالر میں خریدا۔ اب اسکے پاس 84.4 ٹن سونا ہے جسکی مالیت پونے چار ارب ڈالر ہے۔ صرف دیڑھ سال میں جنوبی کوریا نے اپنے سونے کے ذخیرے کو 6 گنا کر لیا۔
  • دنیا میں سب سے زیادہ سونا ہندوستانی عوام کے پاس ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق ہندوستانی عوام کے پاس 16000 ٹن سونا ہے۔
  • پاکستان کی حکومت کے پاس 65.4 ٹن سونا ہے۔
  • سن 2001 میں پاکستان کے عوام نے 119 ٹن سونا خریدا۔
  • ہندوستان اوسطاً 22 بیلین ڈالر کا سونا سالانہ خریدتا ہے۔ عوام میں طلب بڑھنے کی وجہ سے صرف مئی 2011 میں ہندوستان نے 9 بیلین ڈالر کا سونا خریدا۔
  • چین نے اکتوبر 2011 میں ہانگ کانگ کے ذریعہ 85.7 ٹن سونا خریدا۔ یہ مقدار پچھلے سال کے اکتوبر مہینے سے 40 گنا زیادہ ہے۔۔ نومبر میں چین نے مزید 102.8 ٹن سونا خریدا۔
  • امریکی ریاست Utah نے2011 میں ایک نیا قانون پاس کیا ہے جس کے مطابق سونا اور چاندی موجودہ قیمت پر لین دین کے لیئے رقم کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ڈالر پر عدم اعتماد کا مظہر ہے۔ 

  • سن 2012 میں دنیا بھر کے سنٹرل بینکوں نے 534.6 ٹن سونا خریدا۔ سنٹرل بینکوں کی طرف سے اتنا سونا پچھلے 58 سال میں نہیں خریدا گیا تھا. اس میں چین کے سنٹرل بینک کی خریداری شامل نہیں ہے۔۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ سونے کی قیمتیں بہت بڑھنے والی ہیں۔
  • روس کے سنٹرل بینک نے پچھلے دس سالوں میں 570 ٹن سونا خریدا۔
  • سن 2012 تک پچھلے پونے تین سالوں میں سنٹرل بینکوں نے 1100 ٹن سونا خریدا جبکہ اس سے پہلے کے تین سالوں میں انہوں نے 1143 ٹن سونا بیچا تھا۔
  • 2012 تک چین کے عوام نے پچھلے پانچ سالوں میں 4800 ٹن سونا سکوں اور بسکٹ کی شکل میں خریدا۔
  • دنیا بھر میں سونے میں سرمایہ کاری کا لگ بھگ 80 فیصد حقیقی سونے (physical gold) کی شکل میں ہے جبکہ 20 فیصد کاغذی سونے یعنی ETF کی شکل میں ہے۔
  • 2012 میں الیکٹرونک انڈسٹری نے 428.2 ٹن سونا ستعمال کیا۔
  • 2011 میں ہندوستان نے 969 ٹن سونا امپورٹ کیا جبکہ 2012 میں 860 ٹن امپورٹ کیا۔