چاندی کے ورق

صدیوں سے پان ، مٹھائیوں زردہ جیسی کھانے کی چیزوں کو مزین کرنے کے لئے اور اس کے ذائقے میں اضافہ کرنے کے لئے چاندی کے ورق کا استعمال تو رہا ہے لیکن اس کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی اس کے بارے ميں مشہور ہے کہ چاندی کے روق کا استعمال 16 سے 17 سو برس پرانا ہے۔  یہ روایت بھی مشہور ہے کہ یہ استعمال حکیم لقمان کے زمانے سے ہے جس وقت انکے علاوہ دوسرا کوئی حکیم موجود نہیں تھا۔ کاریگر اپنی پیشہ وارانہ مہارت سے  چاندی جیسی سخت دھات کو اتنے باریک ورق میں تبدیل کرتے ہیں جو ہلکی سی پھونک سے بھی پھٹ جاتا ہے۔  سب سے پہلے چاندی کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا جاتا ہے۔ پھر ان ٹکڑوں کو چمڑے کے گدے میں پرت در در رکھا جاتاہے۔ اور پھر اس چمڑے کے گدے کو ہتھوڑوں سے پیٹا جاتا ہے۔ اس گدے کو گھو ما گھوما کر مسلسل پیٹا جاتا ہے۔جس سے یہ باریک اور نازک ورق تیار ہوتا ہے۔
 
ابتدا میں چاندی کے ورق کا استعمال مختلف دواؤں میں کیا جاتا تھا۔ ورق تیار کرنے والے کاریگروں کے مطابق چوں کہ چاندی کے ورق کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے اس لئے یہ خون میں موجود گرمی کو ٹھنڈا کرنے میں مدد کرتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چاندی کے ان اوراق کا استعمال نوابین کے کھانے کی چیزوں کو سجانے میں بھی کیا جاتا تھا۔
مشینوں کے اس دور میں بھی چاندی کے ورق قدیمی طریقہ سے اس کی تیاری کا  فن ابھی تک برقرار ہے۔ پاکستان اور انڈیا میں کئی خاندان نسل در نسل اس پیشے میں منسلک ہیں۔ لیکن بدلتے رقت ميں یہ فن کب تک زندہ رہے سکے گا یہ کہنا مشکل ہے۔
  
بشکریہ بی بی سی