جدید زیورات میں مغلیہ دور کی جھلک

زیورات کےبہتر استعمال سے لباس کی خوبصورتی دوبالا ہو جاتی ہے۔ خواتین میں زیورات کا انتخاب وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔سونے کے زیورات کا استعمال عام حالات کے علاوہ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں بھی کیا جاتا ہے۔ ان  زیورات میں مغلیہ طرز کے خوشنما ڈیزائن بھی تیار کئے جاتے ہیں جو سادہ لباس کے ساتھ دیدہ زیب لگتے ہیں۔ مختلف طرز کے زیورات کا رواج ہر دور میں بدلتا رہتا ہے اور یہی رواج مختلف ادوار میں دہرائے جاتے ہیں۔

زیورات کی تیاری ایک مرحلے میں مکمل نہیں ہوتی۔ بہت سے بچے کم سنی سے ہی اس شعبے سے وابستہ ہوتے ہیں اور یہ مہارت بھی ایسے ہی حاصل ہوتی ہے جیسے سونا آگ میں تپ کر کندن بنتا ہے۔زیورات کی خوبصورتی زرق برق نگوں کے بغیر ادھوری ہے، نگ جڑنے کے لئے کاریگر کے ہاتھ کی مہارت درکار ہوتی ہے اور اس دقیق کام میں نفاست، کاریگر کی گہری نظر کے بغیر نہیں آپاتی۔دورِ حاضر میں مغلیہ دورکے روایتی زیورات کا رجحان پھر سے لوٹتا نظر آ رہا ہے، ایک مخصوص طبقہ وائٹ گولڈ کے خوبصورت اورنفیس زیورات کا استعمال بھی کر رہا ہے، جو ہیرے جیسی شفافیت اور دلکشی دیتا ہے۔