پاکستان میں روزانہ دس من کے قریب سونے کی کھپت ہے

روزنامہ نوائے وقت کے ایک سروے کے مطابق سونے کی قیمت ریکارڈ سطح پر مہنگی ہونے کے باوجود پاکستان میں ہر روز 10من کے قریب سونے کی کھپت ہے جبکہ عالمی منڈی میں سونے کی تجارت 5 ٹن کے قریب ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر روز ایک ارب روپے سے زائد مالیت کے 30 ہزار تولے سونے کی فروخت ہوتی ہے۔ سونے کے عالمی تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر سونے کی قیمتوں میں اسی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو جلدہی اس کی قیمت 70ہزار روپے فی تولہ ہوجائےگی۔ رپورٹ کے مطابق ایک صدی قبل 1910ءمیں برصغیر میں سونے کا بھاﺅ 10روپے فی تولہ تھا۔ 1950ءمیں یہ قیمت بڑھ کر 125روپے فی تولہ ہوگئی۔ پھر اسکی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر کے ممالک افراط زر اور کرنسی کے اتار چڑھاﺅ کا مقابلہ کرنے کےلئے سونے کی خریداری کرتے ہیں۔

 امریکہ اور چین میں سونے کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکہ کے وفاقی ریزور بنک نے سونے کے ذخائر کو نیویارک کے جزیرے مین ہٹن میں زیر زمین پہاڑی تہوں میں 80 فٹ گہرائی میں محفوظ کررکھا ہے۔ یہ جگہ سطح سمندر سے بھی 50 فٹ نیچے ہے۔ رپورٹ کے مطابق سونے کا شمار دنیا کی بھاری ترین دھاتوں میں ہوتا ہے۔ یہ ایک اعلیٰ ترین موصل ہے جس سے برقی رو تیزی سے گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے سونے کو الیکٹرانک کے سازوسامان کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کمپیوٹر‘ ٹیلیفون‘ برقی بلبوں میں سونے کی باریک تار استعمال کی جاتی ہیں۔ اسے خلائی جہازوں اور مصنوعی سیاروں کے بیرونی خول میں سورج کے تابکاری اثرات سے محفوظ کرنے کےلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک اونس سونے کو پھیلا کر 50 میل لمبی تار بنائی جا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سونا ادویات میں بھی استعمال ہوتا ہے وسطی ایشیا کی ریاستوں میں دنیا کے سب سے زیادہ سونے کے ذخائر ہیں، بالخصوص کرغےزستان اور ازبکستان کا شمار سونا پیدا کرنےوالے دنیا کے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ روس اپنی کانوں سے سالانہ 3 سو ٹن سونا حاصل کرتا ہے۔