سونے کی درآمد پر پابندی


کراچی: حکومت کی جانب سے سونے کی درآمد پر عائد پابندی کے سبب پاکستان سے 650 کلو گرام طلائی زیور کے 16برآمدی آرڈرز خطرے میں پڑگئے ہیں۔جیولری ایکسپورٹرز نے 31مارچ کے بعد بھی پابندی جاری رہنے کی صورت میں عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وفاقی حکومت نے سونے کے زیور کی آڑ میں زرمبادلہ کی بیرون ملک منتقلی کے امکانات کے خاتمے کے لیے 2ستمبر 2013کو ایس آر 760کے ذریعے سخت قواعدوضوابط متعارف کرائے تھے۔ ایکسپورٹرز نے ایس آر او 760کے سخت ترین پراسیجرز پر عمل کرتے ہوئے غیرملکی خریداروں سے 16 سودے طے کیے جس کے تحت مجموعی طور پر 650کلو گرام سونے کے زیور امریکا، برطانیہ، کینیڈا، متحدہ عرب امارات کو ایکسپورٹ کیے جانے تھے ان سودوں کی تکمیل سے پاکستان کو ویلیو ایڈیشن کی مد میں 2ماہ کے دوران 20لاکھ ڈالر حاصل ہونے تھے، تاہم اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے گزشتہ دو ماہ سے سونے کی درآمد پر پابندی عائد ہے جس سے ان آرڈرز کی تکمیل کے لیے اب تک انٹرسٹمنٹ اسکیم کے تحت سونا درآمد نہیں کیا جاسکا۔

ایس آر او 760 کے اجرا سے قبل دو پارٹیوں نے خریداروں سے ایڈوانس کے طور پر سونا حاصل کرکے درآمد کیا تھا تاہم کسٹم حکام نے ایس آر او کا اجرا نہ ہونے کے باوجود صرف زبانی احکامات پر ہی یہ سونا بھی تحویل میں لے لیا۔ آل پاکستان جیم مرچنٹس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین حبیب الرحمٰن نے ایکسپریس کو بتایا کہ پاکستان سے سونے کے زیور کی برآمدت دو ماہ سے معطل ہے جس کے نتیجے میں ملک کو لاکھوں ڈالر کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ سونے کے زیور تیار کرنے والے سیکڑوں کارخانے بند پڑے ہیں اور ہزاروں کاریگر بے روزگار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایس آر او 760کے تحت طے کیے گئے سودوں کی متعلقہ ملکوں میں پاکستانی ہائی کمشنز نے توثیق کی تھی تاہم سونے کی درآمد پر پابندی کی وجہ سے ان سودوں کی تکمیل کے لیے سونا درآمد نہیں کیا جاسکا۔ سودوں کی تکمیل کیلیے 75فیصد مدت ختم ہوچکی ہے اور اب خریداروں نے پاکستانی ایکسپورٹرز کے خلاف قانونی کارروائی اور جرمانوں کی وارننگ جاری کردی ہے۔

پاکستانی حکومت نے 31مارچ کے بعد پابندی نہ اٹھائی تو پاکستانی ایکسپورٹرز کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہوگا۔ ساتھ ہی ان ملکوں میں پاکستانی سفارتخانوں کی ساکھ بھی خراب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سودے منسوخ ہونے سے پاکستان کیلیے بیرونی منڈی میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنا مشکل ہوجائیگا اور بیرونی خریدار پاکستان کے بجائے بھارت کو ترجیح دیں گے اس طرح 28سال کی محنت سے حاصل کردہ ہائی ویلیو منڈیاں ہاتھ سے نکل جائیں گی۔ پاکستان سے سونے کے زیورات کی ایکسپورٹ ہر سال بڑھ رہی ہے اور اب برآمدات ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں پابندی جاری رہنے اور منڈیاں ہاتھ سے نکلنے کے سبب یہ سطح برقرار نہیں رہیگی اور سونے کے زیورات کی صنعت کو زوال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایکسپورٹ کے لیے سونا انٹرسٹمنٹ اسکیم کے تحت درآمد کیا جاتا ہے جس کے لیے زرمبادلہ کا انتظام بھی خود ایکسپورٹرز کرتے ہیں ملکی خزانے پر اس کا کوئی بوجھ نہیں پڑتا اس کے باوجودسونے کی درآمد کے ایس آر او 760کو معطل کردیا گیا۔ دوسری جانب سونے کی کمرشل امپورٹ بھی بند ہے جس سے ملک میں غیرقانونی ذرائع سے سونے کی آمد میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ بھارت نے چند ماہ قبل سونے کی کمرشل درآمد پر ڈیوٹی بڑھادی تھی جو بعد میں کم کردی گئی اور اب اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے سبب بھارت نے بھی کمرشل امپورٹ پر ڈیوٹی ختم کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی وزارت تجارت بھی سونے کی درآمد کیلیے ایس آر او 760کو فول پروف قرار دیتے ہوئے سونے کی درآمد پر عائد پابندی کے خاتمے کی سفارش کرچکی ہے۔ وفاقی وزارت تجارت نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ ایس آر او 760کے مقاصد پورے ہوچکے ہیں اس لیے درآمدات پر پابندی معطل کی جائے۔

0 comments:

Post a Comment