زیورات،ٹومباں،گہنے

 لفظ زیورات جمع ہے زیور کی جسے گہنا یا ٹومب بھی کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہر وہ چیز ہے جسے عورت یا مرد خوبصورتی کے لئے استعمال کرے۔زیورات کا تصور انسانی زندگی کے ہر دور میں رہا ہے ۔ زمانہ قدیم میں اگر ہم موہن جوڈارو اور گندھارا کی تہذیب پر نظرڈالیں تو وہاں سے بھی جو آثار قدیمہ ملتے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ وہاں کی تہذیب میں بھی زیورت کا کسی نہ کسی طور عمل دخل رہا ہے۔ قدیم یونان میں جس وقت اورلمپک کھیلوں کا آغاز ہوا تو اس وقت بھی فاتح کھلاڑی کو زیتون کی شاخوں کا تاج پہنا یا جاتا تھا، یعنی یہ بھی زیور کی ایک قسم تھی۔


ہمارے روائتی زیورات کے نمونے اور دیگر معلومات کے لئے یہاں کلک کریں


زیور ہر عورت کی کمزوری ہےعورت اور زیورت ایک دوسرے کے لئے ہمیشہ ہی سے لازم وملزوم ہیں زیور کے بغیر عورت ادھوری سی لگتی ہے۔ پاکستان میں عمومالڑکیوں کی پیدائش کے چند ماہ بعد ہی ان کے ہاتھ میں سونا چاندی یا کسی بھی دوسری دھات کی چوڑی پہنائی جاتی ہے۔ بعد میں ان کے کان چھدوا کراس میں چاندی یا سونےکی بالیاں ڈلوادی جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ہی زیورات پہننے کا آغاز ہوجاتا ہے۔ یہ زیورات آنکھوں کے علاوہ(اب وہ بھی عینک کے فریم کی صورت میں شروع ہوگیا ہے)
تقریباً جسم کے ہر حصے پر پہننے جاتے ہیں اور زیورات مختلف اسٹائل اور ڈیزائنوں میں دستیاب ہوتے ہیں۔

زیورات کی مزید اقسام کے تفصیل کے لئے یہاں کلک کریں

سر کے زیورات


عورتوں کے زیورات کو اگر دیکھا جائے تو ان کی ابتداءسر کے زیورات سے ہوتی ہے، ان میں ٹکہ، جھومر اورماتھا پٹی(دونی ٹکہ) وغیرہ شامل ہیں، ٹکہ اگرچہ ماتھے پر لگا یا جاتا ہے، لیکن اس کا ایک حصہ سرپرلگایا جاتاہے۔ جھومر صرف دلہنیں اورشادی شدہ عورتیں لگاتی ہیں، لیکن ماتھا پٹی بعض گھروں میں عورتیں عام زندگی میں بھی لگاتی ہیں۔اس کے علاوہ بالوں کو لگانے والے کلپ کی صورت میں بھی زیورات کا استعمال ہوتا ہے۔


ناک کے زیورات

شادی کے وقت دلہن کی ناک میں نکاح کے فوراٰ بعد ایک نتھ ڈالی جاتی ہے، اس میں ایک نتھ بالے کی شکل ہوتی ہے۔ جبکہ دوسری نتھ جسے شنگار پوری نتھ کہا جاتا ہے ، اسے بھی شادی کے وقت دلہن کو پہنایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک زیورلونگ بھی ہے جو کہ شادی کے بعد دلہن کی نتھ اتار کراس کی ناک میں ڈال دیا جاتا ہے اس کو کوکا یا نوز پن بھی کہا جاتا ہے۔اس کی کئی اقسام ہوتی ہیں جن میں نورتن کافی مشہور ہے شادی شدہ عورتیں  لونگ کے علاوہ نتھلی کا استعمال بھی کرتی ہیں جو نتھ کی ہی ایک قسم ہوتی ہے اس کو نوز رنگ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دیہاتی عورتیں ناک کے درمیان والی نرم سے ہڈی چھدوا کر اس میں بھی نتھلی پہنتی ہیں جسے نتی اور نسبی بھی کہا جاتا ہے۔

کان کے زیورات


کانوں کے زیورات کے لئے لڑکیوں کے کان بچپن میں چھدوا دیئے جاتے ہیں اوران میں چاندی کے تار کی ہلکی ہلکی سی بالیاں ڈال دی جاتی ہیں۔ یہ ایک طرح سے زیورات پہننے کی ابتدائ ہوتی ہے۔ بعض اورقات والدین خود یا بچی کے ننھیال والے بچی کے کانوں میں سونے کی بالیاں ڈال دیتے ہیں۔ بعد میں لڑکیاں عموماً اپنی پسند کے زیوارت استعمال کرنا شروع کردیتی ہیں۔ کانوں کے زیورات میں بالیاں ، ٹاپس ، جھالے ، بجلیاں ، بندے ،کانٹے،جھمکے،بالے،گولاں اورتراج وغیرہ شامل ہیں۔

گلے کے زیورات

گلے کے زیورات میں مختلف انداز کے زیورات وقت اورفیشن کے ساتھ ساتھ بدل رہے ہیں۔سونے کے زیورات پر کپڑوں کے رنگ سے میچ کرنے یا بعض اوقات کپڑے پر بنے ہوئے سلمیٰ ستارے کے کام سے میچ کرنے کے لئے مختف رنگوں کے موتی اور لیکرکا استعمال بھی بھی کیا جاتا ہے۔ گلے کے زیور میں گلوبند ، چندن ہار، سات لڑا ، چمپا کلی ،مالا،کینٹھا،لاکٹ چین وغیرہ بنائے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ مخصوص تہذیبوں کے مخصوص زیور بھی گلے میں پہننے جاتے ہیں۔ مدراسی ہارایک باریک سی پٹی ہوتی ہے، جوعموماً پازیب جتنی چوڑی ہوتی ہے یہ ہار اپنی نفاست میں لاجواب ہے۔


ہاتھوں کے زیوات

ہاتھوں میں عام طور پر سے چوڑیاں پہنی جاتی ہیں ۔ ہاتھوں کے زیور میں کنگن،کڑے،باہی،بریسلٹ بند،پنجانگلہ وغیرہ بھی شامل ہیں، یہ چیزیں عام طور سے دلہنوں کو چڑھائی جاتی ہیں۔ بعض اوقات دیہاتی زیور بھی شہروں میں فیشن کے طورپر استعمال ہوتے ہیں۔ ہاتھوں میں چوڑیاں کے علاوہ ہاتھوں کے انگلیوں میں انگوٹھیاں بھی پہنی جاتی ہیں۔

پیروں کے زیورات

پیروں کے زیور ہمیشہ سے ہی برصغیر کی عورتیں استعمال کرتی رہتی ہیں،ان میں حیدرآبادی پازیب بہت مشہور ہے یہ زیور کچھ عرصہ قبل ہماری دیہات کی عورتیں پہنا کرتی تھیں، آج کل شہروں میں بھی اس کا عام رواج ہوگیا ہے۔ پیروں کاایک زیور جو کہ کڑا نما ہوتا ہے اورایک ہی پاﺅں میں پہنا جاتا ہے۔

غرض یہ بات طے ہے کہ زیورات کے بغیر عورت کی شخصیت میں نکھارپیدا نہیں ہوتا۔ زیورات صرف بننے سنورنے کے لے نہیں ہوتے، بلکہ مشکل وقت میں کام بھی آجاتے ہیں۔ عام طور پر زیورات روپیہ پیسہ خرچ کرنے سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایک تو زیورات کے بہانے کچھ رقم محفوظ ہوجاتی ہے اوردوسرایہ ہے کہ سونے کا بھاﺅ ہمیشہ چڑھتا رہتا ہے۔ خاص طور پر شادی کے وقت دلہن کو جو زیورات اپنے میکے سے ملتے ہیں ، وہ آئندہ زندگی میں آڑے وقت کے ساتھی ثابت ہوتے ہیں۔ البتہ زیورات خریدتے وقت ان کی مضبوطی کا خاص خیال رکھنا چاہئے اورڈیزائن بھی ایسا منتخب کیا جائے کہ وہ ہر دور میں نیا لگے۔